زیرنظر کتاب ہمعات شاہ ولی اللہ مرحوم
کی تصنیف ہے ۔ مولانا عبیداللہ سندھی کے بقول اس کتاب کو تصوف کا فلسفہ تاریخ
سمجھنا چاہیے ۔ شاہ صاحب نے کتاب میں تصوف کی تاریخ اور تصوف پر چلنے کے عملی
طریقے بیان کیے ہیں ۔ جس میں اطاعت ، ذکر اذکار، مراقبہ ، اور نسبتوں کا بیان ہے ۔
اس ضمن میں شاہ صاحب نے چھ نسبتوں کی تفصیل بیان کی ہے نسبت سکینہ ، نسبت اویسیہ ،
نسبت یاداشت،نسبت توحید ، نسبت عشق اور نسبت وجد۔ اور یہ کہ کن بزرگوں کو کون کون
سے نسبتیں حاصل تھی ۔
شاہ صاحب کے نزدیک شریعت کامقصد یہ ہے
کہ انسان کو چار نسبتیں حاصل ہوں طہارت، عجز وخضوع، سماحت اور عدالت، شاہ کے نزدیک
ان چار خصلتوں کا جو مفہوم ہے اسے کتاب میں تفصیلاً بیان کیا ہے ۔کتاب میں انسانی
لطائف کا بیان ، اور انسانوں کی استعدادوں کا بیان بھی موجود ہے ۔
ایک باب کرامات کے حقیقت کے بیان میں
رکھا گیا ہے جس میں شاہ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ کن ریاضتوں سے کون سی کرامات
ظاہر ہوتی ہیں ۔ایک بات بخت کے بیان میں ہے اس باب میں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ
مجھے بتایا گیا ہے کہ کرامات کا ایک سبب بخت بھی ہے اور اسی باب پر کتاب کا اختتام
ہوتا ہے ۔کتاب کے اختتام پر شاہ صاحب لکھتے ہیں "اس کتاب کی ابتداء میں ہم نے
جو شرط کی تھی کہ ان وجدانی علوم کے ساتھ منقولات اور معقولات کو خلط ملط نہیں
ہونے دیا جائے گا وہ شرط پوری ہوئی "۔
کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس
زمانہ کے تصوف میں کس قدر فلسفہ کے اثرات پائے جاتے تھے ۔ مثلا ً شاہ صاحب نسبت
توحید کے بیان میں جب درجات بیان کرتے ہیں تو انہیں تنزلات کا ذکر کرتے ہیں جو
قدیم فلسفی فلاطینوس( جسے تصوف کا بانی بھی کہہ دیا جاتا ہے) نے تجلی کے باب میں
بیان کیے تھے ۔ ہمارے زمانے کے لحاظ سے یہ کتاب تصوف کے مبتدی کے لیے نہیں ہے ۔
اصل کتاب فارسی میں تھی پروفیسر محمد
سرور صاحب نے اس کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔میرے پاس جو نسخہ ہے وہ سندھ ساگر
اکادمی نے لاہور سے چھا پی ہے ۔کتاب دو سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں