کسی علم کا حاصل ہونا ایک بات ہے اور اس میں مہارت اور کمال
حاصل ہونا دوسری بات۔ صرف علم حاصل کرلینے
سے علمی کمال حاصل نہیں ہوتا جبکہ مطلوب کمال ہوتا ہے نا کہ صرف واقفیت ۔عربی میں علمی
مہارت اور کمال کے لیے اختصاص کا لفظ استعمال
کیا جاتا ہے ۔ مفکر اسلام سید ابو الحسن
علی ندوی رحمہ اللہ اپنی ایک تقریر میں طلبہ کو اخلاص کے ساتھ اختصاص کی دعوت دیتے
ہیں کہ اختصاص ضروری ہے اور اپنی دوسری تقریر میں اختصاص کا مطلب مختصر ترین
الفاظ میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جسے اردو
میں کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے یعنی انتہائی درجہ کی مہارت حاصل کرنی
چاہیے ۔ یاد رکھیں ہر زمانے میں ماہرین علم وفن کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوتی گنتی
کے چند افراد ہوتے ہیں جو تمام علمی بلندیوں سے گزر کر اوج کمال کو حاصل کر پاتے
ہیں ۔ لیکن قدر ہمیشہ کمال ہی کی جاتی ہے ۔
مدارس اسلامیہ کے
طلبہ کو بہت سے علوم سے واقفیت ہوتی ہے یہ
واقفیت ان کے لیے مہارت اور اختصاص کی راہوں کو ہموار کرتی ہے ۔لیکن صرف اتنی
واقفیت انہیں کسی بھی علم میں ماہر نہیں بنا دیتی ۔کسی
علم میں مہارت کا مطلب دو الفاظ میں سمیٹا
جاسکتا ہے ۔
1. معلومات کی کثرت ۔
2. ملکہ علم ۔
یعنی
یا تو کسی علم کے متعلق اتنی معلومات کو جمع کرلیا جائے کہ اتنی واقفیت بہت کم
لوگوں کو حاصل ہو ۔ ان معلومات کا تعلق علم کے تصور سے لیے لیکر علم کی کلیات
جزئیات اور جوانب سب سے ہو ۔یا پھر علم کا
ایسا خداداد ملکہ حاصل ہوجائے کہ اس علم میں نئی ابحاث اور جدید تحقیقات کا اضافہ
کرنے کے قابل ہو۔ دوسری صورت علم وہبی سے ہی ممکن ہوسکتی ہے اس کا کوئی قانون نہیں
ہے لیکن پہلی صورت کا قانون ہے اور وہ اس
علم کے متعلق کثرت مطالعہ ، درس وتدریس
اور تحقیق و تصنیف ہے ۔نیز کبھی پہلی قسم انسان کو دوسری قسم تک بھی پہنچادیتی ہے
۔
لہذا
ہر حال میں علمی کمال اور مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
دو چیزوں پر
محنت ضروری ہے
علمی مہارت کے لیے دو
چیزوں میں مہارت حاصل ہونا ضروری ہے ۔
· تصور علم
· نفس علم
تصورات علم کا
مطالعہ کریں
تصور علم سے کسی علم کا مکمل خاکہ ذہن نشین ہوجاتا ہے ۔
آپ اس علم کاتعارف کروانے کے قابل ہوجاتے ہیں اس علم کی اہمیت آپ پر واضح ہوجاتی
ہے ۔ تصور علم درج ذیل معلومات کو جاننے سے حاصل ہوتا ہے :
1. علم کی تعریف ۔عمومی
اور خصوصی ۔ عمومی سے مراد یہ ہے کہ سادہ لفظوں میں سمجھا اور سمجھایا جاسکے کہ وہ علم کیا ہے ۔
2. علم کی ضرورت اور
اہمیت۔ یعنی وہ علم کتنا اہم اور ضروری ہے اور معاشرہ اور افراد کو اس علم کا کیا
فائدہ ہے ۔
3. علم کی تاریخ ۔ وہ
علم کب شروع ہوا ، اس علم کا بانی کون تھا ۔ کتنے ادوار میں وہ علم تقسیم ہوتا ہے
۔ اس علم کے طبقات کون کون سے ہیں ۔
4. علمی شخصیات۔ اس علم
کی اہم اور نمایاں شخصیات کون کون سی ہیں ۔ ان کا مختصر تعارف اور علمی کارنامے
کیا کیا ہیں ۔
5. علم کی بنیادی کتب کا
تعارف۔ اس علم کی بنیادی کتب کون کون سی ہیں ۔ کتاب کے مصنف ، زمانہ ، کتنی جلدوں
میں ہے ۔ اہل علم میں اس کتاب کی اہمیت کیا ہے ؟
6. اس علم کے متعلق اہم
اشکالات اور ان کے جوابات کیا کیا ہیں ۔ مثلاً حدیث میں تدوین حدیث کے مسئلہ پر
اعتراضات اور ان کے جوابات کو جاننااسی طرح تدوین قرآن کریم کی تاریخ کو جاننا ،
کیا فقہ رومن لاء سے ماخوذ ہے ؟
ان باتوں کو جاننے سے
آپ کو اس کے ذہن میں اس علم کا ایک خاکہ بن جائے گا اور آپ کو تصور علم مل جائے
گا۔
دینی علوم کے تعارف
اور بنیادی تصورات پر اب بہت سی کتب دستیاب ہیں جو اپنے موضوع پر بہترین سمجھی
جاتی ہیں انہی میں سے چند کتب کے نام درج ذیل میں لکھے جاتے ہیں جن
سے علمی تصورات جاننے میں مدد ملے گی ۔
تصورات ِ علم پر مبنی چند کتب کے نام
محاضراتِ ڈاکٹر
محمود احمد غازی
ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کے محاضرات اس سلسلے میں بہت
اہمیت رکھتے ہیں جن میں نہایت آسان اور عام فہم انداز میں قرآن، حدیث، فقہ ، شریعت، سیرت اور تعلیم کے متعلق بہت اہم اور علمی معلومات مل جاتی ہیں
۔ مذکورہ عنوانات میں سے ہر عنوان پر
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے محاضرات کا علیحدہ علیحدہ سلسلہ موجود ہے ۔ طلبہ کو
ان کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔
التنظیر الفقہی
اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر جمال الدین عطیہ ہیں اصل
کتاب عربی میں ہے جس کا اردو ترجمہ مذکورہ
”فقہ اسلامی کی نظریہ سازی “ کے عنوان سے
دستیاب ہے ۔یہ کتاب اصول فقہ کے بنیادی
تصورات ، تاریخ اور بہت سی کتب کے تعارف پر مبنی ایک بہترین کتاب ہے ۔ کتاب میں
قواعد فقہیہ کا تعارف اور
ان کی اہم کتب کا تعارف بھی موجود ہے ۔
تاریخ التشریع
الاسلامی
ڈاکٹر خضری بک کی
مشہور کتاب ہے جس میں فقہ کے تعارف اور فقہ کے ادوار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے
۔
النحو العربی
ڈاکٹر صلاح روای کی
کتاب ہے سات سو سے زائد صفحات کی اس کتاب میں عربی نحو کی ابتداء ، تاریخ ، مدارس، رجال وکتب کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
تاریخ الادب
العربی
شیخ حسن زیات کی
مشہور زمانہ کتاب جس میں عربی ادب اور
ادباء کی تاریخ کو عہد اول سے زمان جدید تک بہترین انداز سے سمیٹا گیا ہے ۔ کتاب
کا اردو ترجمہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے ۔
علم الکلام اور
الکلم
مولانا
شبلی نعمانی مرحوم کی مایہ ناز کتاب جن میں علم کلام کی تاریخ بیان کی گئی ہے ۔
کتاب کے تعارف کے لیے مولانا شبلی نعمانی مرحوم کا نام ہی کافی ہے ۔ اس کتاب میں
فرقوں کی پیدا ہونے کی وجوہات ، فرقوں کے بنیادی عقائد ، عروج وزوال وغیرہ کا ذکر
بہت خوب انداز سے کیا گیا ہے ۔ کتاب کے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ مولانا شبلی مرحوم نے کتاب میں جو انداز اپنایا
ہے اس سے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ
صرف اشاعرہ کا رد کررہے ہیں اور معتزلہ سے متاثر ہیں لیکن در حقیقت وہ ماتریدیہ کا
دفاع کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مولانا شبلی ذاتی زندگی میں متصلب حنفی اور
ماتریدی تھے لہذا ان کا اشاعرہ کا رد کرنے کا مقصد ماتریدیت کا دفاع ہے نا کہ
معتزلہ کا دفاع بہرحال کتاب لاجواب ہے ۔
تصورات علم کا مطالعہ
کرنے میں بہت وقت درکار نہیں ہوتا اگر
مسلسل مطالعہ کیا جائے تو اس کے لیے چھ مہینے بھی کافی ہوجاتے ہیں ۔
نفس علم کا
مطالعہ کریں
اس کے بعد نفس علم کی
باری آتی ہے کسی علم کو براہ راست کس طرح
حاصل کیا جائے ؟اس بارے میں یہ بات ذہن
نشین رہنی چاہیے کہ اگرچہ اس کی ابتداء ایسی کتب سے ہوتی ہے جو مبتدئ حضرات کے لیے
لکھی گئی ہیں لیکن چونکہ ہمارے مخاطب دینی مدارس کے طلبہ ہیں جنہوں نے بنیادی درجہ
سے کہیں زیادہ علوم پڑھ رکھے ہوتے ہیں اور باقاعدہ استاذہ کرام کے پاس بیٹھ کر سبقاً
سبقاً پڑھے ہوتے ہیں اس لیے یہ بات بحث سے خارج ہوجاتی ہے کہ ابتدائی کتب کونسی ہونی چاہیں ۔
علمی متن یاد
کریں
بہرحال اس سلسلہ میں کسی ایک یا دو متون کو زبانی یاد کر لینا چاہیے ۔ کسی بھی علم کے مشہور متن کو یاد کرلینے سے وہ علم گرفت میں آجاتا ہے اور زندگی بھر اس بارے میں کبھی کوئی پریشانی پیش نہیں آتی ۔
ماخذ کتب کی
معلومات حاصل کریں
پھر
کسی علم کی ماخذ کتب کی معلومات حاصل کریں ماخذ کتب سے مراد اس علم کی وہ بنیادی کتب ہیں
جن پر باقی کتب اعتماد کرتی ہیں مثلاً فقہ
حنفی میں ظاہر الروایۃ ۔ ا س ضمن میں کتاب
کا نام ، مصنف کا نام ، کتاب کی جلدیں ، مختلف نسخوں کی معلومات ، کتاب میں مصنف
کا انداز ، کتاب کے ابواب وغیرہ کو جاننا چاہیے ۔
ماخذ کتب کا
مطالعہ کریں
پھر ماخذ کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے ماخذ کتب کے مطالعے کا ایک فائدہ تو
یہ ہے کہ اس علم کے متعلق مستند معلومات مل جاتی ہیں جنہیں کہیں بھی حوالہ کے طور
پر پیش کیا جاسکتا ہے دوسرا ماخذ کتب کا مطالعہ دوسری بہت سی کتب کےمطالعہ سے بے
نیاز کردیتا ہے ۔ اس لیے اہمیت کے ساتھ بنیادی کتب کے مطالعہ پر توجہ دینی چاہیے ۔
اہم کتب کا
مطالعہ کریں
یعنی ماخذ کتب کے علاوہ جو کتب کسی بھی علم میں
بہت اہمیت کی حامل ہیں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
یہ اہمیت کئی لحاظ سے ہوسکتی ہے
مثلاً کسی مصنف کا انداز بیان بہت خوب ہے ۔ کسی کی تلخیص بہت اچھی ہے ۔ کسی کی
تقسیم اچھی ہے ۔ کسی نے عقلی پیمانوں پر کام کیا ہے کسی نے نقلیات پر زیادہ کام
کیا ہے ۔
طویل المیعاد
مطالعہ کریں
نفس علم کا مطالعہ کرنے
کا دوارانیہ چند سالوں پر محیط ہو گا کیونکہ ایک ہی سال میں کوئی شخص کسی علم کا
ماہر نہیں بن جاتا ہے ۔لہذا استقامت سے طویل المیعاد مطالعہ کی بنیاد رکھیں اور ہر روز کا یا ایک ہفتہ یا
مہینے کے مطالعہ کی مقدار طے کر لیں تاکہ کئی جلدوں کی کتب کا مطالعہ بھی آسانی
اور ترتیب سے پایہ تکمیل کو پہنچے ۔
انداز مطالعہ
تبدیل کریں
کتابوں کا مطالعہ
کرتے ہیں ان کی اہم باتوں کو نوٹ کرتے
جائیں ، جن ابواب ، مسائل کا خلاصہ تیار
ہوسکتا ہے ان کا ساتھ ساتھ ہی خلاصہ تیار کرتے رہیں ۔کتاب میں جہاں جہاں کوئی
اشکال پیش آرہا ہے یا کوئی بات سمجھ نہیں آرہی اسے نشان زدہ کرتے رہیں تاکہ بعد میں کسی سے رہنمائی لی
جاسکے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انداز مطالعہ تحقیقی اور تنقیدی اپنائیں یعنی کسی کتاب کو پڑھنے کے
دوران اس کتاب میں مصنف کا انداز تحقیق ، مصنف کا قلم، کتاب کی خوبیاں اور خامیاں ساتھ
ساتھ نوٹ کرتے ہیں ۔جو اہم بات نظر سے گزرے کا صفحہ نمبر محفوظ کر لیں ۔ جو بات ذہن میں آرہی ہے اس بات کوک قید تحریر
میں لے آئیں تاکہ بعد میں کام آسکے ۔ کتاب پڑھنے کے بعد اس کے متعلق جو خاکہ ذہن
میں آرہا ہے اس خاکہ کو لکھ لیں اور کتاب پر اپنا تبصرہ ضروری تحریر کرلیا کریں ۔
اس بارے میں اپنے پاس مستقل کاپی ہونی چاہیے جس میں یہ سب معلومات جمع کی جاسکیں
یا کتاب کے آخری صفحے کو کام میں لایا
جاسکتا ہے ۔ آج کل ڈیجیٹل نوٹ پیڈ بھی موجود ہیں انہیں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
جیسے آفس ورڈ ،ون نوٹ، گوگل کیپ وغیرہ ۔
اہم اور مشکل ابحاث یاد کریں
علمی مہارت کے لیے
ضروری ہے کہ طالب علم ایک علم کے متعلق بہت سی ابحاث کو یاد کرلے خاص کر جنہیں علم
میں مشکل سمجھا جاتا ہے مثلا ً علم میراث میں ذوالارحام کی بحث۔ علوم القرآن میں سبعہ احرف کی بحث وغیرہ ۔ فقہ میں تجارت کے مسائل وغیرہ۔
2۔ علم کے متعلق تازہ
اور جدید معلومات حاصل کریں
تازہ اور جدید معلومات سے مراد یہ ہے کہ اس علم کے متعلق اگر کوئی نئی کتاب بازار میں آئی ہو تو اس کتاب کی معلومات حاصل کرنا کہ کس نے لکھی ہے ؟اس کتاب کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں وغیرہ اسی طرح نئی مباحث کو جاننا جن پر اہل علم کسی بھی وجہ سے بحث مباحثہ میں مصروف ہیں ۔
3۔ ہر علم کے ماہر ین سے رابطہ اور تعلق ۔
اپنے زمانہ میں کسی
علم کے ماہرین کو جاننا اور ان کی معلومات کا ہونا کہ متعلقہ علم میں اپنے ملک میں
یا دنیا بھر میں کون کون ماہرین علم ہیں ۔
اس بارے میں یہ بات اچھے طریقے سے سمجھ لینی چاہیے کہ ضروری نہیں کہ ماہرین علم کا
تعلق آپ کے اپنےمسلک و مشرب سے ہو ۔ لہذا بلا تعصب مذہبی و مسلکی جہاں بھی کوئی
ماہر ِ علم پایا جائے اس علم کی حد تک اس سے رابط و تعلق فائدہ مند ہوتا ہے ۔
مسلمانوں کے دور عروج میں مختلف علوم میں ترقی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مسلمانوں
نے ہر طرح کے ماہرین علم کی ناصرف فضیلت کا اعتراف کیا بلکہ مسلمان
خلفاء نے ان کی قدر کی اور ان سے کام لیا ۔ مسلمانوں کی کشادہ دلی کا عالم تو یہ
تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کو استاد بنانے سے بھی کبھی عار محسوس نہیں کی چنانچہ
منطق ، فلسفہ ، علم کلام حتی کہ تفاسیر
میں بھی غیر مسلموں کے اثرات کا مشاہد ہ ہم کر سکتے ہیں ۔ آج دور زوال
میں علمی زوال کے اسباب میں سے ایک سبب اہل علم کی ناقدری ہے ۔ ہمیں پہلے مسلمان چاہیے پھر اپنے مذاہب فقہ میں سے اپنے فقہ کا چاہیے پھر اپنے خاص مسلک کا چاہیے پھر اپنے مسلک میں بھی
خاص اپنی جماعت کا چاہیے ۔ اتنی شرائط لگانے کا نتیجہ علمی ترقی میں رکاوٹ کی شکل
میں ظاہر ہورہا ہے ۔ یہ آفت صرف اہل مدارس
کے ساتھ ہی خاص ہےورنہ اگر ہم دنیا کی طرف
نظر اٹھا کر دیکھیں تو ان کی ترقی کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہر طرح کے اہل علم کی
قدر کرتے ہیں ۔ اس لیے قطع نظر مسلک و مشرب کے ہر طرح کے اہل علم کی معلومات جمع
کریں اور اگر کوئی مانع نا ہو تو ان سے استفادہ کی راہ نکالیں ۔ یقیناً قدر کا یہ
مطلب نہیں ہوتا کہ آپ اپنے نظریات سے سبکدوش ہوجائیں یا اپنے اکابر سے قطع تعلق
کرلیں ۔
4۔ماہرین کی صحبت اختیار کریں
کسی علم میں مہارت کے
لیے اس علم کے ماہرین کی صحبت بہت ضروری ہے بہت سی باتیں صحبت کے بغیر سمجھ نہیں
آتی اگر یہ کہا جائے تو غلط نا ہوگا کہ علمی مہارت میں آدھا حصہ ماہرین سے تعلق
اور ان کی صحبت کا ہوتا ہے ۔ ان کے ملکہ استنباط ، اس علم میں انداز تکلم ، فہم ،
تحقیق اور تنقید بہت کچھ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ کتنا ہی
مطالعہ کیوں نا کرلیا جائے لیکن کسی ماہر کی صحبت کے بغیر علمی پختگی اور خود
اعتمادی میں ہمیشہ کچھ نا کچھ کمی رہ جاتی ہے ۔ اس لیے جس علم میں
مہارت مطلوب ہو اس علم کے ماہرین یا کسی ماہر کے پاس اتنا وقت ضرور گزارا چاہیے جس
سے علمی پختگی میں مدد مل سکے ۔