بدھ، 16 اگست، 2023

ترجمہ کرنے کے رہنما اصول


ترجمہ کرنے کے لیے سب سے پہلے آپ کو مفردات کے معانی پہچاننے ہوں گے اس کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ لغت کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے ۔

مفردات کا ترجمہ

لغت کی کتابیں دیکھنے کا طریقہ

عربی زبان اشتقاق کی زبان ہے یہاں کلمات کا ایک خاندان ہوتا ہے کچھ بنیادی الفاظ ہوتے ہیں باقی ان کے گرد گھومتے ہیں ۔اگرچہ آپ نے کتنی ہی محنت سے صرف ونحو کیوں نہ پڑھی ہو لیکن یاد رکھیں کہ مطالعہ لغت دیکھے بغیر ہو ہی نہیں سکتا ۔ اب لغت کیسے دیکھنی ہے اس کے لیے لغت کی کتاب کو سمجھنا پڑے گا۔

لغت کی کتابوں کو تین دبستانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ہم اس وقت صرف اس کی بات کریں گے جو طریقہ ہمارے ہاں متداول ہے ۔ یعنی المنجد ، مصباح اللغات وغیرہ میں پایا جاتا ہے ۔

1۔ کسی کلمہ کا معنی دیکھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے حروف اصلی کو دیکھیں ۔ اس کے لیے اتنی صرف آنا ضروری ہے کہ آپ میں حروف اصلی اور زائد کی پہچان ہو۔

2۔ حروف اصلی کی ابجدی ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسے لغت میں تلاش کریں ۔ مثلا راکب لفظ کا ترجمہ دیکھنا ہے تو پہلے اس کے حروف اصلی دیکھیں جو رک ب ہیں ۔ اب پہلے" ر" کے باب میں جائیں پھر" رک "کو تلاش کریں پھر "رکب" پر پہنچیں ۔

3۔ اگر فعل کا ترجمہ دیکھنا ہے تو یاد رکھیں کہ لغت میں مشتقات کا ترجمہ نہیں لکھا ہوتا وہاں مصدری ترجمہ ہی ملے گا ۔ اپنے مطلوبہ لفظ کے ترجمہ کو آپ کو خود بنانا ہے ۔ مثلا لغت میں یضرب کا ترجمہ نہیں ملے گا ہاں ضرب کا ترجمہ مل جائے گا پھر آپ کو خود پہچاننا ہے کہ مضارع کا ترجمہ کیا ہوتا ہے ۔

4۔ لغت میں افعال کو ترتیب سے لکھا جاتا ہے لہذا پہلے مجرد کے ابواب ہوں گے پھر مزیدات کے ۔ مجردات اور مزیدات میں وہی ترتیب قائم رہے گی جس ترتیب پر آپ نے صرف کی کتابوں میں ابواب پڑھیں ہیں مثلاً پہلے باب افعال پھر تفعیل پھر مفاعلہ ۔۔۔۔ ۔اگر یہ بات معلوم ہو تو ڈھونڈنے میں بہت آسانی رہتی ہے ۔

5۔ کوئی فعل دیکھتے وقت اس کے صلہ کو ساتھ ضرور دیکھیں جو لغت کی کتابوں میں ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے مثلا آگے فی لکھا ہوگا اور ایک ترجمہ ہوگا۔ پھر من لکھا ہوگا اور دوسرا ترجمہ ۔ صلہ دیکھے بغیر اگر ترجمہ دیکھیں گے تو بعض دفعہ غلطی ہوجائے گی ۔

6۔ لغت کی کتابوں میں اسماء کو افعال کے بعد لکھا جاتا ہے لہذا اگر کوئی اسم تلاش کرنا ہے تو افعال کے بعد تلاش کریں وہاں اس اسم کی جمع یا جمع کا مفرد وغیرہ سب مل جائے گا۔

7۔ اسم فاعل ، اسم مفعول وغیرہ کیونکہ اسماء میں شمار ہوتے ہیں لہذا ان کا ترجمہ فعل کے علاوہ اسماء میں بھی مل سکتا ہے ۔

8۔ جب ایک لفظ کے ایک سے زیادہ تراجم لکھے ہوں تو ایک ایک کو عبارت میں لگا کر دیکھیں جو سیاق و سباق کے زیادہ قرین قیاس لگے اسی کو لے لیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفردات دیکھنے کے بعد تراکیب کا ترجمہ

یہاں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ کو مختلف تراکیب کے تراجم معلوم ہوں پھر آپ کو بامحاورہ ترجمہ کرنے کے اصول کا علم ہو ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ اپنے ترجمہ کو بہت بہتر بناسکتے ہیں ۔

مشہور تراکیب کے تراجم

لہذا سب سے پہلے مشہور تراکیب کے تراجم دیکھ لیں اور انہیں یاد کرلیں ۔

1۔ مبتدا اور خبر کے ترجمہ میں نسبت کا ترجمہ بھی کیا جاتا ہے لہذا اس ترجمہ میں ہے یا نہیں کا اضافہ کیا جائے گا۔جیسے زید قائم ۔ زید کھڑا ہے ۔ زید لیس بقائم ۔ زید نہیں کھڑا ۔ قرآن کریم میں آتا ہے ۔ انا یوسف ۔ میں یوسف ہوں ۔

2۔ فعل کا ترجمہ کرتے وقت دیکھیں گے اگر فعل لازم ہوا تو فعل فاعل کے ترجمہ میں کسی لفظ کا اضافہ نہیں کیا جائے گا مثلاً قعد زید کا ترجمہ ہوگا زید بیٹھ گیا ۔

3۔ فعل متعدی میں فاعل کا ترجمہ نے کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ جیسے ضرب زید ۔ زید نے مارا۔

4۔ مفعول بہ کا ترجمہ لفظ ”کو“ یا لفظ ”سے“ سے کیا جاتا ہے ۔ مفعول فیہ کے ترجمہ میں ”میں“ کیساتھ ۔ مفعول لہ میں ”کے لیے“ یا کیوجہ سے جیسے الفاظ کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔ مفعول مطلق میں اسی لفظ کا اضافہ ہوگا جس کے لیے مفعول مطلق لایا گیا ۔ تو کبھی ”طرح“ کے لفظ کا اضافہ ہوگا ۔ اور کبھی ”انداز“ کے لفظ کا جیسے جلست جلسۃ القاری میں قاری کی طرح بیٹھا ۔

5۔ حال کا ترجمہ کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔ ”حالانکہ“ ،” اس حال میں کہ“ ،“ہو کر“ یا ”بن کر“ اور ”ہوتے ہوئے“ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ۔ مثلاً جاء زید راکباً ۔ زید سوار ہوکر آیا ۔

6۔ تاکید کے ترجمہ میں تمام یا سب یا خود جیسے الفاظ کے ساتھ ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ جیسے کلمنی الوزید نفسہ۔ وزیر نے مجھ سے خود بات کی۔

7۔ بدل اگر بدل الکل ہو تو یعنی کے لفظ سے ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ لیکن اگر بدل الاشتمال ہو تو بدل کو مبدل منہ کی طرف مضاف تصور کر کے ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ مثلا سرق زید ثوبہ کا ترجمہ ہوگا زید کا کپڑا چوری ہوگیا۔ بدل الغلط کا ترجمہ دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے ۔ یا ترجمہ میں نہیں کا اضافہ کر کے ترجمہ کیا جائے گا یا سکتہ کر کے ترجمہ کیا جائے ۔ جیسے جاء زید عمرو۔ کا ترجمہ ہوگا زید ۔۔نہیں ۔۔ عمرآیا ۔ یا بغیر نہیں کے لفظ کے اضافہ کے صرف سکتہ کرکے آگے بدل کا ترجمہ کر دیا جائے گا۔

8۔مستثنی کا ترجمہ ”سوائے“ یا ”علاوہ“ یا ”لیکن“ یا ”ہاں“ جیسے الفاظ سے کیا جاتا ہے ۔

9۔ حرف جار کا ترجمہ کرتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھا جائے گا کہ وہ اس عبارت میں کس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اسی مناسبت سے ترجمہ کیا جائے گا۔

10 ۔ اسماء موصولہ کا ترجمہ ”وہ ، ایسا ، ایسی“ کے ساتھ کیا جاتا ہے جبکہ صلہ کا ترجمہ ”جو، جس نے، جس کو“ جیسے الفاظ کے ساتھ ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ مثلاً۔ الذی خلق الموت والحیوۃ ۔ وہ ذات جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا ۔

11۔ تمییزنسبت ہوتوکبھی اس کے بعد ’’سے‘‘کا اضافہ کرتے ہیں : اِمْتَلَأَ الْاِنَاءُ مَائً(برتن پانی سے بھر گیا) اورکبھی تمییز کوموقع کے مناسب فاعل یا مفعول یا مبتدا کا مضاف تصور کر کے ترجمہ کیا جاتا ہے: حَسُنَ زَیْدٌ وَجْہًا(زید کا چہرہ خوبصورت ہے) فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوْنًا(ہم نے زمین میں چشمے پھاڑے) أَنَا أَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا(میرا مال تجھ سے زیادہ ہے)

(نوٹ ۔ نمبر گیارہ خلاصۃ النحو سے نقل کیا گیا ہے جبکہ بدل اور تاکید میں اس سے تھوڑا بہت استفادہ کیا گیا ہے۔ )

بامحاورہ ترجمہ کے چند بنیادی اصول

تراکیب کے تراجم کے بعد تراکیب میں ان تراجم کے استعمال کا طریقہ کار سیکھنا ہے ۔ اس طریقہ کار کا تعلق بامحاورہ ترجمہ کے ساتھ ہے ۔

اردو زبان اپنے اسلوب بیان میں عربی زبان کے برعکس واقع ہوئی ہے اسی بات کو مد نظر رکھ کر ترجمہ کیا جائے گا ۔

1۔ مضاف ، مضاف الیہ میں مضاف الیہ کا ترجمہ پہلے کیا جائے گا۔

2۔ موصوف صفت میں صفت کا ترجمہ پہلے کیا جائے گا۔

3۔ مبتداء خبر میں پہلے مبتداء کا پھر خبر کا ترجمہ ہوگا ۔

4۔ فعل فاعل میں ہمیشہ فاعل کا ترجمہ پہلے ہوگا ۔ اگر فعل لازم ہوگا تو فاعل کے ترجمہ میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں ہو گا مثلا قعد زید میں ترجمہ ہوگا زید بیٹھ گیا ۔ لیکن اگر فعل متعدی ہوا تو فاعل کا ترجمہ کرتے وقت نے کا اضافہ کیا جائے گا ۔ مثلا ضرب زید یہاں ترجمہ ہوگا زید نے مارا۔

5۔ فعل فاعل اور مفعول تینوں جملے میں موجود ہوں تو پہلے فاعل کا ترجمہ ہو گا پھر مفعول کا ۔ لیکن کئی مقامات پر پہلے مفعول کا اور پھر فاعل کا ترجمہ ہو گا ۔

6۔ اگر فعل فاعل مفعول اور جار مجرور بھی کلام میں پائے جارہے ہیں تو مفعول اور جار مجرور میں سے اسی کا ترجمہ پہلے ہوگا جو اردو محاورہ کے مطابق ہو ۔ لہذا کبھی جار مجرور کا پہلے ہوگا اور کبھی مفعول کا ۔

7۔ بڑے جملوں میں اکثر ترجمہ آخر سے اٹھایا جاتا ہے ۔

8۔ اگر دو ضمائر کا مرجع ایک ہی ہو تو دوسری کا ترجمہ ہمیشہ اپنے کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ہندوستانی اردو میں خود کے کے ساتھ ترجمہ ہو گا۔ جیسے الزمو انفسکم ۔ کا ترجمہ ہو گا تم اپنے آپ کو الزام دو۔ یا تم خود کو الزام دو۔

9۔ حرف جار کا ترجمہ کرتے وقت بہت دیھان کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے حروف جارہ کئی معانی میں استعمال ہوتے ہیں ایسی صورت میں اس بات کو پہچاننا پڑتا ہے کہ یہاں یہ حرف کس معنی میں استعمال ہوا ہے پھر اسی کے موافق ترجمہ کیا جاتا ہے ۔ جیسے ب کا ترجمہ کبھی ساتھ ہوگا کبھی میں ہوگا کبھی کو ہوگا کبھی مدد سے ہوگا وغیرہ وغیرہ ۔

10۔ جار مجرور میں پہلے حرف مجرور کا ترجمہ پھر جار کا ترجمہ اور پھر ان کے متعلق کا ترجمہ کرتے ہیں ۔ اور اگر جار مجرور کسی محذوف کے متعلق ہوں تو اکثر اس محذوف کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ۔

11۔ ترجمہ کرتے وقت کچھ الفاط کی کمی پیشی اگر ترجمہ کو بامحاورہ بنانے کے لیے کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

12۔ بعض دفعہ بامحاورہ ترجمہ لفظی ترجمہ سے کافی ہٹ کر ہورہا ہوتا ہے تو دل میں یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ یہ ترجمہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں تو یاد رکھیں یہ وہم دل میں نہ لانا چاہیے بیشک یہ ترجمہ لفظی ترجمہ سے کوسوں دور ہو۔ جب تک مفہوم کو صحیح ادا کررہا ہے اور الفاظ میں اس کی کچھ نہ کچھ گنجائش ہے ۔

ترجمہ کرنے میں دو ضروری باتیں

1۔ صلات کی پہچان

عربی صلات بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ کیونکہ صلہ کے بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے ۔ صلہ سے مراد کسی فعل کے بعد آنے والا حرف جار یا کوئی ایسا حرف یا اسم ہے جس کی وجہ سے فعل کا معنی بدل جائے ۔ صلات اکثر حروف جارہ ہی ہوتے ہیں ۔ یہ بات پہچاننا کہ اس فعل کا صلہ کیا آیا ہے بہت اہم ہے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیں ۔ ذھب کا مصدری ترجمہ ہے جانا لیکن اگر صلہ میں ب آجائے تواب ترجمہ ہوجائے گا لے جانا جیسے اللہ تعالی نے فرمایا ذھب اللہ بنورھم ۔ اللہ ان کے نور کو لے گیا ۔ اسی طرح جاء کا مصدری ترجمہ ہے آنا لیکن صلہ میں ب آجائے تو ترجمہ ہوگا لانا ۔ رغب کے صلہ میں فی آجائے تو ترجمہ رغبت کرنا ہی رہتا ہے لیکن اگر صلہ میں عن آجائے تو اب اعراض کرنا معنی ہوجاتا ہے یعنی بالکل ہی بدل جاتا ہے ۔ مجھے عربی سیکھانے والی کسی کتاب میں صلات کی علیحدہ سے بحث نہیں ملی سوائے مفتاح الانشاء کے ۔ وہاں جدید صلات کو ذکر کیا گیا ہے ۔

صلات کو کہاں دیکھیں

لغت کی کتب میں صلات لکھیں ہوتے ہیں اور ان کا ترجمہ بھی اس وجہ سے مطالعہ کرتے وقت جب کسی لفظ کا ترجمہ دیکھنا ہو تو پہلے دیکھ لیں کہ اس کا کوئی صلہ بھی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو لغت میں صلہ کے ساتھ دیکھیں کہ کیا ترجمہ ہے اس طرح غلطی سے بچ جائیں گے اور بہتر ترجمہ کرپائیں گے ۔

2۔ از قبیل اضداد الفاظ کا لحاظ

کچھ الفاظ عربی میں دو مختلف اور ایک دوسرے سے متضاد مفہوم رکھتے ہیں۔ ایسے الفاظ کو پہچاننا بھی ضروی ہے مثلا باع کا ترجمہ کبھی بیچنا اور کبھی خریدنا ہوتا ہے ۔ یا رغبت کا ترجمہ رغبت کرنا اور اعراض کرنا دونوں آتے ہیں ۔ ایسے الفاظ کی پہچان ضروری ہے تاکہ ترجمہ میں دیکھا جاسکے کہ یہاں کون سے مفہوم مراد لینا عبارت کے مناسب ہے اور کس سے ترجمہ خراب ہوجائے گا۔

بامحاورہ ترجمہ کے چند دیگر سنہری اصول

ترجمہ دوسری زبان کے مطابق کیا جائے

یہ سب سے بڑا اصول ہے کہ ترجمہ کرتے وقت یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا ترجمہ اس زبان کے محاورہ میں ڈھل رہا ہے جس زبان میں ترجمہ کیا جارہا ہے ۔ اگر نہیں تو اس کا مطلب ہے ترجمہ ابھی تک بامحاورہ نہیں ہوا۔

مفہوم کی حفاظت کی جائے

بامحاورہ ترجمہ کرتے وقت اس بات کا لحاظ بھی رہنا چاہیے کہ مفہوم میں تبدیلی نہ آئے ۔ اگر مفہوم میں تبدیلی آرہی ہے تو یہ ترجمہ درست نہیں ہے ۔ اگرچہ بامحاورہ لگے ۔

الفاظ کی کمی پیشی قابل برداشت ہے

بامحاورہ ترجمہ میں ہر لفظ کا ترجمہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا بلکہ کئی مرتبہ یہ کوشش بامحارہ ترجمہ سے دور لے جاتی ہے ۔ مثلا ً اردو میں میں بار بار حروف عطف کا استعمال نہیں ہوتا۔ لیکن عربی میں کثرت سے ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ حروف جار کا ہے کہ ہمیشہ ان کا ترجمہ کرنا ممکن نہیں لہذا اردو میں ترجمہ کرتے وقت اگر کچھ حرف کم کرنے پڑیں تو کوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح کبھی اردو کا ترجمہ مکمل نہیں ہوپاتا جب تک اپنی طرف سے کچھ الفاظ کا اضافہ نہ کیا جائے شاید نسبت کا ترجمہ اس کی سب سے اچھی مثال ہے ۔ تو جیسے نسبت کے بیان کے لیے ہے یا نہیں کے اضافہ کو برا نہیں سمجھا جاتا اسی طرح دیگر جگہوں پر بھی کچھ اضافہ کرنے کی اگر ضرورت ہو تو کچھ حرج نہیں۔

لمبی عبارت کا ترجمہ کئی جملوں میں کیا جائے

عربی میں خاص کر جدید عربی میں بسا اوقات ایک جملہ بہت لمبا ہوتا ہے ۔ کیونکہ عرب جمل معترضہ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ۔ جب کہ اردو میں ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں جمل معترضہ کو مستقل جملہ مان کر اس کا ترجمہ کرنا ہی بہترین ترجمہ کہلاتا ہے ۔

مدرسین کے لیے

بعض دفعہ ایک ہی جملے کا ترجمہ دو انداز سے ہوسکتا ہے ۔ مثلاً جو مصادر مبنی للمفعول ہیں یا مبنی للفاعل ان کا مصدری ترجمہ بھی ہوسکتا ہے اور فعل والا بھی ۔ فعل مضارع کا ترجمہ کبھی حال و استقبال دونوں کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔یہی معاملہ الف لام بمعی الذی کا بھی ہے ۔ ایسی صورت حال میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو ایسی الجھنوں سے بچاتے ہوئے انہیں بتائیں کہ اس عبارت کا ترجمہ دو طریقوں سے کیوں کیا جاسکتا ہے ۔

اچھے ترجمہ کی مشق

اچھا ترجمہ بغیر محنت اور مشق کے نہیں آتا ۔اساتذہ طلبہ سے مشق ضرور کرواتے رہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی عبارت کا ترجمہ طلبہ سے پوچھا جائے اور بہتر سے بہتر ترجمہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی جائے اس طرح ان میں شوق پیدا ہوگا اور محنت رنگ لائے گی۔ لیکن اس کام کے لیے استاذہ کو خود عربی عبارت پر محنت کرنی پڑے گی ۔ آج کل جو روش چلی ہے کہ صرف اردو کی شروحات دیکھ کر جا کے پڑھا دو اس طرح طلبہ کو کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ بلکہ اس سے استاد کی قدر بھی کم ہوتی ہے کہ طلبہ بھی وہی شرح خرید لیتے ہیں ۔

مشق کرنے کا طریقہ

پہلے مفردات کے ترجمہ کو لغت سے جانیں ۔ پھر ترکیب کو جاننے کی کوشش کریں اور ہر ترکیب کے ساتھ ترجمہ کرتے جائیں اور دیکھیں کہ مفہوم سمجھ میں آگیا یا نہیں ۔ پھر بامحاورہ ترجمہ کرنے کے لیے ترجمہ کو دوتین جگہوں سے اٹھا کر دیکھیں مثلاً ایک دفعہ فاعل سے ترجمہ اٹھا کر دیکھیں کیسا لگ رہا ہے ۔ دوسری مفعول سے اٹھا کر تیسری بار جار مجرور سے ۔ اس طرح تھوڑی سے محنت سے آپ ایک بہتر ترجمہ تک پہنچ جائیں گے ۔

گر کی بات

جس زبان میں بامحاورہ ترجمہ کرنا ہے اس زبان کی کتابیں پڑہنے سے بہت زیادہ مدد ملتی ہے ۔ اس کے بغیر اچھا اور بامحاورہ ترجمہ نہیں کیا جاسکتا ۔ مثلاً اگر اردو میں ترجمہ کرنا ہے تو اردو کی کتابوں کے مطالعے سے ہی بامحاورہ ترجمہ کرنے کا طریقہ معلوم ہوجاتاہے ۔ اگرچہ اس سے قواعد تو معلوم نہیں ہوتے لیکن ملکہ ضرور پیدا ہونے لگ جاتا ہے ۔ اور ملکہ ہو تو بہت دفعہ قواعد کی ضرورت نہیں رہتی ۔

امید ہے کہ یہ باتیں طلبہ کے مطالعہ میں کام آئیں گی اور ان کو آگے بڑھنے میں مدد دیں گی ۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں