جمعرات، 17 اگست، 2023

تعارف کتاب تزکیہ و احسان یا تصوف و سلوک

 


اس کتاب کے مصنف سید ابوالحسن علی ندوی مرحوم ہیں ۔ اصل کتاب عربی میں ہے ۔ مولانا محمد الحسنی ندوی مرحوم نے اس کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔عرب میں سلفیت کے رجحان کی وجہ سے تصوف کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں مولانا نے ان کی اصلاح کی کوشش کی ہے ۔ مولانا علی میاں مرحوم نے کتاب میں بنیادی طور پر درج ذیل باتیں کہی ہیں ۔

1۔ تصوف کے انکار کی وجہ یا اس سے دوری کی وجہ اصطلاحات کا فرق ہے ۔ تصوف حقیقت میں وہی تزکیہ اور احسان ہے جس کا ذکراور حکم قرآن کریم میں موجود ہے ۔ یہ اصطلاحات کا مسئلہ ہی دوری کا سبب بنتا ہے ۔مولانا اس پر زور دیتے ہیں کہ اصطلاحات میں گم نہ ہونا چاہیے بلکہ حقیقت پر نظر رکھنی چاہیے ۔

2۔ دین کی عملی جد وجہد میں سب سے زیادہ کردار صوفیاء کا رہا ہے ۔ چنانچہ دنیائے اسلام میں جتنی تاریخی جہادی تحریکیں دیکھی جاسکتی ہیں چاہے وہ سید احمد شہید کی تحریک ہو یا امیر عبدالقادر الجزائری،طاغستان میں روسیوں کے مقابلے میں نقشبندی ہوں یا امام شامل،یا شیخ احمد السنوسی سبھی صوفیاء کرام تھے اور ان کی برپا کردہ تحریکیں ۔اس سلسلہ میں مولانا علی میاں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہند اور دیگر اسلامی دنیا کے صوفیاء کرام کا تذکرہ اور ان کی تاریخی ملی،اور دینی خدمات کو تفصیل سے پیش کیا ہے ۔

3۔ امام ابن تیمیہ کو لوگ عموماً صوفی شمار نہیں کرتے جب کہ ان کا تصوف سے گہرا تعلق تھا ۔ اس کا ذکر عرب حضرات کے لیے خصوصاً کیا گیا ہے ۔ کیونکہ اصلا ً کتاب بھی عربی ہے ۔یہاں یاد رہے کہ مولانا علی میاں مرحوم صحیح تصوف کی بات کررہے ہیں ۔

4۔ مولانا نے تصوف کو ایک الہامی نظام قرار دیا ہے ۔

کتاب کے آخر میں کچھ صوفیاء کرام کے حالات قریب از مرگ وفات کا ذکر ہے تاکہ ان کی حقانیت اس پہلو سے بھی واضح ہوسکے ۔

کتاب صرف 174 صفحات پر مبنی ہے لیکن ان صفحات میں مولانا علی میاں مرحوم نے اپنے پر ادب اور دلنشین قلم کے ساتھ تصوف کی حقیقی شکل وصورت کو واضح کرنے اور اس پر ہونے والے بے جا اعتراضات کو خوبصورت انداز میں دور کرنے کی کوشش کی ہے ۔

یہ کتاب مجلس نشریات اسلام کی طرف سے چھپی ہے ۔ کتاب پر قیمت درج نہیں ہے 

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں