کتاب بہت مشہور ہے ، مصنف کا نام اننت رام تھا ، پنڈت تھے ، اسلام لائے اسلام لانے کے بعد اپنا نام محمد عبیداللہ رکھا، دینی تعلیم سیکھی( جس کی وجہ سے ان کا نام مولانا محمد عبید اللہ لیا جاتا ہے ۔ )پھر اس کتاب کو لکھا۔ یہ وہی کتاب ہے جسے بوٹا سنگھ نامی بچہ نے بارہ سال کی عمر میں پڑھا ، وہ اسلام سے متاثر ہوا ، اسلام لایا ، اسلام لانے کے بعد کتاب کے مصنف سے متاثر ہو کر اپنا نام بھی عبیداللہ رکھا اور تاریخ میں امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی بن کر چمکا۔ بعض کتابوں کے ٹائٹل پر بھی یہی بات لکھ دی گئی ہے ۔ کتاب تقابل ادیان پر مبنی ہے ۔ مصنف نے اسلام کا تعارف کروایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہندو مت کو تقابلا ذکر کیا ہے ۔ کیونکہ وہ خود پہلے پنڈت تھے اس وجہ سے ان کی بات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ کتاب میں عقائد ، اعمال ، فرقے اور رسوم و رواج کا تقابل کر کے دکھایا گیا ہے تاکہ لوگ اسلام کی طرف مائل ہوں ۔ کتاب کے مقدمے میں کتاب پڑھنے کے بارے میں کچھ نصیحتیں بھی موجود ہیں جن میں سے یہ دلچسپ بات بھی ہے کہ کتاب کوعورتوں کی مجلس میں نہ پڑھا جائے کیونکہ ہندوؤں کا مذہب ایسا شریفانہ نہیں کہ ان واقعات کو عورتوں کی محفل میں بیان کیا جاسکے ۔ کتاب کا انداز دعوت ڈاکٹر ذاکر نائیک کے انداز دعوت سے مختلف ہے ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کا انداز دعوت ایسا ہے جیسے ہندو مت بھی وہی کہہ رہا ہے جو اسلام کہہ رہا ہے لیکن اسلام کامل شکل میں وہ بات کہہ رہا ہے ۔ یا جیسے ہندو مت اسلام کی طرف داری کر رہا ہے ۔ جبکہ کتاب کا انداز دعوت یہ ہے کہ ہندو مت کی باتیں مکمل طور پر خلاف عقل اور خلاف شرافت ہیں ۔ اس لیے اسلام کو مانو ۔ دونوں طریقے ہی کارآمد ہیں اگر مسلمانوں کا مجمع ہو یا کوئی ہندو اکیلا تقابل کرنا چاہے تو کتاب تحفۃ الہند کا طریقہ کار آمد ہے ۔ اور اگر ہندوؤں کا مجمع ہو تو ڈاکٹر ذاکر نائیک کا طریقہ کارآمد ہے ۔ بہر حال کتاب تحفۃ الہند ایک اچھی کتاب ہے ۔ 239 صفحات پر مشتمل ہے ۔ مکی دارالکتب لاہور سے شائع ہوئی ہے ۔ میں نے بہت عرصہ پہلے فیصل آباد جامعہ سلفیہ کے کتب خانے سے خریدی تھی ۔ کتاب پر 150 روپے قیمت درج ہے ۔ اس نسخہ میں ایک خامی ہے کہ سنسکرت کے الفاظ پر زبر زیر پیش نہیں لگی ہوئی جس وجہ سے ان الفاظ کی ادائیگی سمجھ نہیں آتی ۔ اسی کتاب کا دوسرا نسخہ جو ادارہ احیاء السنۃ والوں نے چھاپا ہے اس میں مشکل الفاظ کو آسان کیا گیا ہے ۔ نیز حواشی کے ساتھ کتاب کو مزین کر کے کتاب کو بہتر حالت میں لایا گیا ہے ۔ خریدنے والے اپنی مرضی کا نسخہ چن سکتے ہیں.

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں